احمد آباد،16 ؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک بھر میں پھیلے کرونا وائرس بحران کے درمیان گجرات کے احمد آباد سے حیران کرنے والی خبر سامنے آئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق احمد آباد سول اسپتال میں کرونا مریضوں کو مذہب کی بنیاد پر مختلف وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ طبی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گوت ایچ راٹھور نے کہا کہ ہندو مریضوں کے لئے ایک وارڈ اور ایک دیگروارڈ مسلم مریضوں کے لئے حکومت کے فیصلے کے بعد بنایا گیا تھا۔
وہیں نائب وزیر اعلی اور وزیر صحت نتن پٹیل نے اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات دینے سے انکار کر دیا۔
ڈاکٹر راٹھور نے کہاکہ عام طور پر مرد اور خواتین کے مریضوں کے لئے الگ الگ وارڈ ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ہم نے ہندو اور مسلم مریضوں کے لئے الگ الگ وارڈ بنائے ہیں۔
اس طرح کی علیحدگی کرنے کا سبب پوچھنے پر ڈاکٹر راٹھور نے کہا کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے۔اسپتال میں داخل پروٹوکول کے مطابق جب تک کسی بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کی رپورٹ مثبت یا منفی نہیں آ جاتی اسے الگ ہی رکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر راٹھور نے بتایا کہ کرونا وائرس کے لئے اسپتال میں داخل 186 لوگوں میں سے 150 لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہیں۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق 150 میں سے کم از کم 40 مسلمان ہیں۔
ایک انٹریو میں نائب وزیر اعلی پٹیل نے کہاکہ مجھے اس طرح کے فیصلے کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ عام طور پر مردوں اور عورتوں کے لئے مختلف وارڈ ہوتے ہیں۔ میں اس کے بارے میں تفتیش کروں گا۔